ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آر بی آئی کو بینکوں میں ڈالنے ہوں گے اور 1.6 لاکھ کروڑ روپے: رپورٹ

آر بی آئی کو بینکوں میں ڈالنے ہوں گے اور 1.6 لاکھ کروڑ روپے: رپورٹ

Thu, 29 Nov 2018 01:37:53    S.O. News Service

ممبئی28 نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بینکوں میں نقدی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ریزرو بینک کو آئندہ چوتھی سہ ماہی (مارچ) میں کھلی مارکیٹ آپریشنل کے ذریعے 1,60,000کروڑ روپے مزید بینک کے نظام میں ڈالنے پڑ سکتے ہیں۔ بینک آف امریکہ میرل لنچ نے بدھ کو ایک رپورٹ میں اس تعلق سے ایسی باتیں کہی ہیں ۔ عالمی سرمایہ کاری کمپنی نے یہ بھی کہا کہ منگل کو Omo کے ذریعے 40 ہزارکروڑ روپے کا سرمایہ کے اندراج کا فیصلہ موجودہ نقد مسئلہ حل کرنے کے لئے شاید کافی نہیں ہوگا۔ نقد رقم کی کمی تقریبا 1,00,000کروڑ روپے کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہمارا نقد ماڈل اندازہ بتاتا ہے کہ آر بی آئی کو مارچ سہ ماہی میں 1,60,000کروڑ روپے یا 22 ارب ڈالر کے اوایم او کی ضرورت ہو گی۔ یہ ہمارے اس اندازہ کی تصدیق کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مارکیٹ کی طلب مارچ تک مزید ہوگی۔کرنسی مارکیٹ میں پہلے ہی1,00,000 کروڑ روپے کا خسارہ ہے اور آگے بڑھ ادائیگی کے بعد یہ دسمبر میں1,40,000کروڑ روپے ہو سکتا ہے۔ بوفوایم ایل کے مطابق اگر غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کا سرمایہ کمزور رہتا ہے تو آر بی آئی کی طرف سے کیش ریزرو تناسب میں ایک فیصد کمی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق سی آر آر کاٹ اگر ہوتی ہے تو بینک کے نظام میں قریب 1,20,000 کروڑ روپے آئے گا۔ اس سے آر بی آئی کے لئے او ایم او کے ذریعے 40 ہزار کروڑ روپے ڈالنے کی ہی ضرورت ہو گی۔ سی آر آر کے تحت تجارتی بینکوں کو کم از کم رقم آر بی آئی کے پاس محفوظ ذخائر کے طور پر رکھنی ہوتی ہے۔ فی الحال یہ 4 فیصد ہے۔ بوفو ایم ایل نے کہا کہ فوری اصلاحی کاروائی کو اگر ہلکی کی جاتی ہے ،اس سے مختصر اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لئے قرض بڑھے گا۔ 


Share: